بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی فارن ریلیشنز کونسل کے سربراہ مائیکل فورمین (Michael Froman) نے اپنے ایک تجزیاتی مضمون میں اعتراف کیا ہے کہ:
- امریکہ کو ـ طویل مدت میں ـ مغربی ایشیا کے سیاسی جغرافیے میں ـ ایران کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا راستہ تلاش کرنا پڑے گا۔
- ایران نے نئی صورت حال پیدا کی ہے اور امریکہ خطے میں اپنی موجودگی مزید جاری رکھنے پر قادر نہیں ہے۔
- ایران کی برداشت پیش گوئیوں سے بہت زیادہ، ثابت ہوئی، اور امریکہ کو اس کے سنجیدہ منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
- امریکہ اپنے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے، مغربی ایشیا اور پوری دنیا میں اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لئے، شدید کمزوریوں سے دوچار ہو چکا ہے۔
- امریکہ بالآخر مجبور ہوگا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنی فوجی ترجیحات میں سے ـ زیادہ اہم اور کم اہم، زیادہ ممکن اور کم ممکن کے درمیان ـ انتخاب کرے اور اپنے فوجیوں کی تعداد کم کر دے۔
- مغربی ایشیا میں بھی عرب ریاستیں سمجھ گئی ہیں کہ امریکی فوجیوں کی موجودگی ـ جنگ کے دوران ـ انہیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔
- امریکہ کے میزبان ممالک کو مزید یقین نہیں ہے کہ جنگ اور خطرے کی صورت میں، امریکہ ان کا مکمل دفاع و تحفظ کرے گا۔
- دوسری طرف سے، خطے سے امریکی اڈوں کی بساط لپٹ جانا، علاقائی پالیسی کو عجلت زدگی میں دوبارہ مرتب کرنے اور فوجی اتحادوں کی تشکیل پر منتج ہوتا ہے۔ لیکن
- ایران طویل مدت میں، بدستور، خطے کے جغرافیائی-سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا رہے گا اور سب مجبور ہیں کہ ایران کے ساتھ بقائے باہمی کے لئے راستہ ڈھونڈ لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ